حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا
دختر محمد مصطفی ٰ (ص) زوجۂ علی مرتضیٰ(ع) معصومہ کونین، مادر حسنین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی
دردناک شہادت کے موقع پر تمام عالم اسلام اور مخصوصا امام زمانہ (ع) کی خدمت میں
تعزیت اور تسلیت عرض کرتے ہیں۔
فاطمہ زہرا (س) پر پڑنے والے مصائب
افسوس ہے کہ وہ
فاطمہ(س) جن کی تعظیم کو رسول کھڑے ہوجاتے تھے بعدِ رسول اہل زمانہ کا رخ ان کی طرف
سے پھر گیا۔ ان پر طرح طرح کے ظلم ہونے لگے ۔علی علیہ السّلام سے خلافت چھین لی گئ۔
پھر آپ سے بیعت کا سوال بھی کیا جانے لگا اور صرف سوال ہی پر اکتفا نہیں بلکہ
جبروتشدّد سے کام لیا جانے لگا. انتہا یہ کہ سیّدہ عالم کے گھر پر لکڑیاں جمع
کردیں گئیں اور آگ لگائی جانے لگی . اس وقت آپ کو وہ جسمانی صدمہ پہنچا، جسے آپ
برداشت نہ کر سکیں اور وہی آپ کی وفات کا سبب بنا۔ ان صدموں اور مصیبتوں کا
اندازہ سیّدہ عالم کی زبان پر جاری ہونے والے اس شعر سے لگایا جا سکتا ہے کہ
صُبَّت علیَّ مصائبُ
لوانھّا صبّت علی الایّام صرن لیالیا
یعنی مجھ پر اتنی
مصیبتیں پڑیں کہ اگر وہ دِنوں پر پڑتیں تو وہ رات میں تبدیل ہو جاتے۔
سیدہ عالم کو جو
جسمانی وروحانی صدمے پہنچے ان میں سے ایک، فدک کی جائداد کا چھین جانا بھی ہے جو
رسول نے سیدہ عالم کو مرحمت فرمائی تھی۔ جائیداد کا چلاجانا سیدہ کے لئے اتنا تکلیف
دہ نہ تھا جتنا صدمہ اپ کو حکومت کی طرف سے آپ کے دعوے کو جھٹلانے کا ہوا. یہ وہ
صدمہ تھا جس کا اثر سیّدہ کے دل میں مرتے دم تک با قی رہا .
حضرت فاطمہ زہرا (س) کی وصیتیں
حضرت فاطمہ زہرا (س) نے خواتین کے لیے پردے کی اہمیت کو اس وقت بھی ظاہر کیا جب اپ دنیا سے
رخصت ہونے والی تھیں . اس طرح کہ اپ ایک دن غیر معمولی طو رپر فکر مند نظر ائیں .
اپ کی چچی ( جعفر طیار (رض) کی بیوہ) اسماء بنتِ عمیس نے سبب دریافت کیاتو آپ نے
فرمایا کہ مجھے جنازہ کے اٹھانے کا یہ دستور اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ عورت کی میّت
کو بھی تختہ پر اٹھایا جاتا ہے جس سے اس کا قدوقامت نظر اتا ہے . اسما (رض) نے کہا
کہ میں نے ملک حبشہ میں ایک طریقہ جنازہ اٹھانے کا دیکھا ہے وہ غالباً اپ کو پسند
ہو. ا سکے بعد انھوں نے تابوت کی ایک شکل بناکر دکھائی اس پر سیّدہ عالم بہت خوش
ہوئیں
اور پیغمبر کے بعد صرف ایک موقع ایسا تھا کہ اپ کے لبوں پر مسکراہٹ اگئی چنانچہ اپ
نے وصیّت فرمائی کہ اپ کو اسی طرح کے تابوت میں اٹھایا جائے . مورخین تصریح کرتے
ہیں کہ سب سے پہلی لاش جو تابوت میں اٹھی ہے وہ حضرت فاطمہ زہراکی تھی۔ اسکے علاوہ
آپ نے یہ وصیت بھی فرمائی تھی کہ اپ کا جنازہ شب کی تاریکی میں اٹھایا جائے اور ان
لوگوں کو اطلاع نہ دی جائے جن کے طرزِ عمل نے میرےدل میں زخم پیدا کر دئے ہیں۔
سیدہ ان لوگوں سے انتہائی ناراضگی کے عالم میں اپ اس دنیاسے رخصت ہوئیں۔
شہادت سیدہ عالم نے
اپنے والد بزرگوار رسولِ خدا کی وفات کے 3مہینہ بعد تیسری جمادی الثانی سن ۱۱ ہجری
قمری میں وفات پائی . اپ کی وصیّت کے مطابق اپ کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا .حضرت
علی علیہ السّلام نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا . صرف بنی ہاشم اور سلیمان فارسی
(رض)، مقداد(رض) و عمار(رض) جیسے مخلص و وفادار اصحاب کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر
خاموشی کے ساتھ دفن کردیا . اپ کے دفن کی اطلاع بھی عام طور پر سب لوگوں کو نہیں
ہوئی، جس کی بنا پر یہ اختلاف رہ گیا کہ اپ جنت البقیع میں دفن ہیں یا اپنے ہی مکان
میں جو بعد میں مسجدرسول کا جزوبن گیا۔ جنت البقیع میں جو آپ کا روضہ تھا وہ بھی
باقی نہیں رہا۔ اس مبارک روضہ کو 8شوال سن ۱۳۴۴ھجری قمری میں ابن سعود لعنتی نے
دوسرے مقابر اہلیبیت علیہ السّلام کے ساتھ منہدم کرادیا۔
|