حضرت آیت اللہ شیخ محمد جواد فاضل لنکرانی دامت برکاتہ کا جواب آذربایجان میں شیعہ مساجد کی تخریب کےبارےمیں۔(۲۳،۲،۸۹)
باسمہ تعالی
یہ ایام جناب زہرا سلام اللہ علیھا کی شہادت کے ایام ہیں اس دردناک مصیبت کے
موقع پر حضرت بقیہ اللہ امام زمانہ (ع) اور تمام شیعیوں خاص کرکے آذربایجان کے
شیعیوں کی خدمت میں تسلیت پیش کرتا ہوں۔ ضروری ہے مومنین ان ایام میں عزاداری
منائیں۔ جیسا کہ مرجع تقلید آیت اللہ فاضل لنکرانی ہمیشہ اس بات پر تاکید کرتے تھے
کہ ایام فاطمیہ(س) کو ایام عاشورا میں تبدیل کیا جائے۔
آذربایجان میں تخریب مساجد کے مسئلہ کی طرف وہاں کے لوگوں اور طلاب عزیز کی
توجہ کو مبذول کرتے ہوئے چند نکات کی طرف اشارا کرتا ہوں
اول یہ کہ آذربایجان میں اسلام اور شیعت کا وجود کافی عرصہ سے ہے یہاں تک کہ ۸۰
فی صد سے زیادہ مسلمانوں کی آبادی ہے۔ اس وقت اسلام کے دشمن یہ کوشش کر رہے ہیں کہ
ان ممالک میں جن میں اسلام جڑیں پکڑ چکا ہے اسلام کی جڑوں کو دھیرے دھیرے کاٹیں۔
تاکہ اس کے بعد آسانی سے اپنا نفوذ پیدا کر سکیں۔
دوسرا نکتہ یہ کہ ان آخری سالوں میں مساجد کو خراب کر کے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ
علماء اور مبلغین کا رابطہ لوگوں سے ختم کریں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ شعائر الٰہی
جیسے عزاداری، آذان کا مساجد سے نشر ہونے اور حجاب اسلامی کو ممنوع کریں۔ آذربایجان
کے لوگوں کو متوجہ رہنا چاہیے کہ یہ تمام چیزیں آپس میں رابطہ رکھتی ہیں۔ ایسا نہیں
ہے کہ ایک دفعہ ایک مسجد کو خراب کر دیا اس کےبعد انہیں کسی سے مطلب نہیں رہے گا۔
اب کئی سالوں سے عزاداری کےلیے محدودیت ایجاد کر رہے ہیں۔ اور کوشش کر رہے ہیں کہ
روحانیت کو لوگوں سے جداکریں۔ اور آج مساجد کو خراب کرنے کے در پہ آگئے ہیں۔ ہمیں
چاہیے کہ ان نکات کی طرف توجہ کریں۔ تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ ہمارا ان مسائل کے سلسلے
میں کیا شرعی فریضہ ہے۔ قرآن کریم سورہ بقرہ کی ۱۱۴ ویں آیت میں ارشاد فرماتا ہے:
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن
مَّنَعَ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ
أَن يُذْكَرَ فِيهَا
ٱسْمُهُ وَسَعَىٰ فِى
خَرَابِهَا أُولئِكَ مَا
كَانَ لَهُمْ أَن
يَدْخُلُوهَا إِلَّا خَائِفِينَ
ۚ لَهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا
خِزْىٌ وَلَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ
عَذَابٌ عَظِيمٌ اس آیت کے تقاضے کے مطابق وہ لوگ جو کوشش کر
رہیں کہ مساجد کو خراب کریں دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عظیم عذاب میں گرفتار ہوں
گے۔ اسی طریقے سے سورہ حج کی ۴۰ ویں آیت میں ارشاد ہوا ہے: الَّذِينَ أُخْرِجُوا
مِن دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوارَبُّنَا اللَّهُ
وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍلَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ
وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُاللَّهِ كَثِيرًا
وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّعَزِيزٌاس آیت
میں خدا فرماتا ہے: اگر خدا بعض لوگوں کے ذریعے ظالموں اور ستمکاروں کا راستہ نہ
روکتا مساجد، کلیسا اور وہ جگہیں جہاں خدا کا ذکر ہوتا ہے سب منھدم ہو جاتیں۔ اس کے
فرماتا ہے: وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ
عَزِيزٌاگر مسلمان ان افراد کے مقابلے میں کہ جو عبادت کے مراکز کو نابود کرنے
کے در پہ ہیں مقاومت کریں خدا ان کی مدد کرے گا۔
اس بنا پرآذربایجان کے لوگ یہ سوچ لیں کہ اگر آج وہ خاموش رہے ایک دن ایسا آئے
گا کہ جو کمونسٹ کے دور سے بدتر ہو گا اس لیے کہ اگر اس دوران لوگ مخفی جگہوں یا
اپنے گھروں میں عبادت کر سکتے تھے اور دین پر عمل کر سکتے تھے آج اس دور سے بدتر
دور نزدیک ہے عبادت اور دین کا مفہوم لوگوں کے اندر سے مٹا دے رہے ہیں۔اس بنا ہر
کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے اس بات میں کہ لوگوں پر ضروری اور واجب ہے کہ بلکل
اجازت نہ دیں کہ ان کی مساجد خراب کی جائیں۔ اور اس سلسلے میں ذرہ برابر بھی کوتاہی
نہیں ہونا چاہیے۔آج لوگوں کی ذمہ داری ان مسائل کے سامنے واضح و آشکار ہے۔ لہذا
ابتدا میں انہیں نصیحت و گفتگو کے راستےسے اس کام سے منع کیا جائے۔ اور سیاستمداروں
اور حکومت کے کارندوں سے بھی امید ہے کہ لوگوں کے جذبات کو نہ بھڑکائیں۔ اور
مسلمانوں کے مقابلہ میں کھڑے نہ ہوں کہ کبھی خدا کا غضب ان کے شامل حال نہ ہو جائے۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ
|