امام راحل (رہ) اسلام کو سیاست اور روحانیت کے بغیر قبول نہیں کرتےتھے
آیت اللہ محمد جواد فاضل لنکرانی : امام راحل (رہ) اسلام کو سیاست اور روحانیت
کے بغیر قبول نہیں کرتےتھے(اخبار ۱۹ دی)(۱۶،۵،۲۰۱۰)
آیت اللہ محمد جواد فاضل لنکرانی نے قم کے "مجمع پیروان امام خمینی (رہ)" کے
روساء سے ملاقات کی جو مرکز فقہی آئمہ اطہار میں انجام پائی۔ اس ملاقات میں سب سے
پہلے جناب زہرا (س) کی شہادت کی مناسبت سے تسلیت اور تعزیت پیش کی اور فرمایا: اس
عظیم خاتون کی شہادت دنیائے اسلام کے لیے ایک بہت بڑا المیہ ہے اور اس کا غم ہمیشہ
عالم انسانیت کے دلوں میں تازہ رہے گا۔
انہوں نے مزید فرمایا: اس غم کا داغ کبھی بھی کم نہیں ہو گا اور امام عصر(ع) کے
ظہور تک انسان جناب زہرا(س) کا عزادار رہے گا۔
جامعۃ المدرسین کے عضو نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ انقلابی لوگوں کو
ایام فاطمیہ (ع) میں انجام پانے والی مجالس اور عزاداری میں جوش و خروش کے ساتھ
شرکت کرنا چاہیے، کہا: جناب زہرا (ع) کی عزاداری کسی خاص گروہ اور فرقہ سے مخصوص
نہیں ہے۔ سب کو چاہیے کہ ان پروگراموں میں حصہ لیں۔
انہوں نے واضح کیا: ان ایام میں عزاداری ایک شرعی فریضہ ہے۔ اور آیت اللہ فاضل
لنکرانی بھی اس سلسلے میں حد سے زیادہ تاکید کرتے تھے اور خود بھی اس میں حصہ لیتے
تھے اور اپنے ہاتھوں سے لوگوں کو ان مجالس میں شرکت کی دعوت کے لیے پوسٹر لکھتےتھے۔
آیت اللہ فاضل نے وضاحت کی: انقلابیین اور وہ لوگ جن کا انقلاب کے لیےدل جلتا
ہےانہیں چاہیے کہ اس کام میں پیش پیش رہیں اور مجالس عزا کو برپا کریں ہمیں کوشش
کرنا چاہیے تا کہ اس کام سے ہم حضرت زہراء (س) کی عظمت کو پہچان سکیں۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں اس سوال کو پیش کرتے ہوئے کہ ہمیں انقلاب
کی حفاظت کے لیے کیا کرنا چاہیے، کہا: انقلاب لانا آسان ہے انقلابی رہنے اور انقلاب
کو باقی رکھنے سے۔
جامعۃ المدرسین کے عضو نے اس نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ایرانی انقلاب
اسلامی، خدا پر ایمان، ظلم کے ساتھ جنگ اور طاغوت کو شکست دینے کی بنیاد پر قائم ہے
کہا: دینداری اور انقلاب کی حفاظت کی راہ میں نشیب و فراز پائے جاتے ہیں اگر انسان
اپنے اعتقاد میں راسخ نہ ہو تو اس کا ایمان متزلزل ہو جائے گا۔
انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ انقلاب کی حفاظت اور اسے باقی رکھنےکے
لیے ثابت قدمی درکار ہونا چاہیے، فرمایا: ہمارےانقلابی چہروں پر کبھی بھی مایوسی
اور ناامیدی کے آثارنظر نہیں آنا چاہیے۔
انہوں نے کہا:ہمیں راہ انقلاب میں ثابت قدمی کےراستوں کو پہچاننا چاہیے اور
مختلف شرائط اور خطرناک میدانوں میں ہمیں اپنے عقائد سے منحرف نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے اس راہ میں ایک اہم عامل کو اخلاص قرار دیتے ہوئے کہا: بصیرت بھی اخلاص
کے ساتھ ساتھ دوسرا عامل ہے۔ اور رہبر عظیم الشان ان آخری انتخابات کےبعد اس نکتہ
کی طرف خاص توجہ دلاتے رہے ہیں۔ آپ کے کلام کا محوری نکتہ بصیرت رہا ہے۔
رئیس مرکز فقہی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ہمیں چاہیےکہ ہم اسلام واقعی کو امام
راحل سے لیں فرمایا: وہ اسلام کہ جس میں آپ کہیں کہ حجاب کی رعایت اس دور میں ضروری
نہیں ہے کہاں ہے؟ کہاں امام راحل کے اسلام میں یہ چیز پائی جاتی ہے۔ امام راحل کا
اسلام وہ اسلام ہے جو روحانیت اور مرجعیت کے بطن سے باہر آتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: انقلاب کے اصول میں سے ایک اصل یہ ہے کہ ہمیں روحانیت اور
مرجعیت کو لوگوں کے درمیان بے رنگ نہیں ہونے دینا چاہیے۔ ہم یہ جان لیں کہ دشمن کا
ایک مقصد یہ بھی ہےکہ مرجعیت اور لوگوں کے درمیان جدائی اور دوری پیدا کرے۔
فاضل لنکرانی یہ بیان کرتے ہوئے کہ اسلام امام راحل سیاست اور روحانیت سے الگ
نہیں تھا، کہا: انقلاب میں ایک مہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم کلی خطوط کو رہبر انقلاب
سےاخذ کریں۔ اور اس طرف حرکت کریں جدھر آپ حرکت کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے آخر میں فرمایا: اس سال کہ جسے رہبر انقلاب نے " ھمت مضاعف
و کار مضاعف " کا نام دیا ہے ہمیں چاہیے کہ انقلاب کی حفاظت میں دوگنی ہمت سے کام
لیں اور میدان میں حاضر ہو کر انقلاب کی حفاظت کریں۔ |