امام ھادی علیہ السلام کی حیات
طیبہ کا ایک گوشہ
حضرت امام ھادی علیہ السلام کی سیرت طیبہ اوراخلاق وکمالات
وہی تھے جواس سلسلہ عصمت کی ہرفردکے اپنے اپنے دورمیں امتیازی طورپر مشاہدہ میں آتے
رہتے تھے قیدخانہ اورنظربندی کاعالم ہویاآزادی کازمانہ ہروقت ہرحال میں یادالہی،
عبادت ، خلق خداسے استغناء، ثبات قدم، صبرواستقلال، مصائب کے ہجوم میں ماتھے پرشکن
کانہ ہونا ، دشمنوں کے ساتھ حلم ومروت سے کام لینا، محتاجوں اورضرورت مندوں کی
امدادکرنا، یہی وہ اوصاف ہیں جوامام علی نقی (ع) کی سیرت زندگی میں نمایاں نظرآتے
ہیں۔
قیدکے زمانہ میں جہاں بھی آپ رہے آپ کے مصلے کے سامنے ایک
قبرکھدی تیاررہتی تھی دیکھنے والوں نے جب اس پرحیرت اوردہشت کااظہارکیا توآپ نے
فرمایامیں اپنے دل میں موت کاخیال رکھنے کے لیے یہ قبراپنی نگاہوں کے سامنے
تیاررکھتاہوں حقیقت میں یہ ظالم طاقت کواس کے باطل مطالبہ اطاعت اوراسلام کے حقیقی
تعلیمات کی نشرواشاعت کے ترک کردینے کی خواہش کاایک عملی جواب تھا یعنی زیادہ سے
زیادہ سلاطین وقت کے ہاتھ میں جوکچھ ہے وہ جان کا لے لینا مگرجوشخص موت کے لیے
اتناتیارہوکہ ہروقت کھدی ہوئی قبراپنے سامنے رکھے وہ ظالم حکومت سے ڈرکرسرتسلیم خم
کرنے پرکیسے مجبورکیاجاسکتا ہے مگراس کے ساتھ دنیاوی سازشوں میں شرکت یاحکومت وقت
کے خلاف کسی بے محل اقدام کی تیاری سے آپ کادامن اس طرح بری رہاکہ باوجود
دارالسلطنت کے اندرمستقل قیام اورحکومت کے سخت ترین جاسوسی انتظام کے باوجود کبھی
آپ کے خلاف تشدد کے جوازکی دلیل نہ مل سکی باوجودیکہ سلطنت عباسیہ کی بنیادیں اس
وقت اتنی کھوکھلی ہورہی تھیں کہ دارالسلطنت میں ہرروزایک نئی سازش کافتنہ
کھڑاہوتاتھا۔
متوکل سے خوداس کے بیٹے کی مخالفت اوراس کے انتہائی
عزیزغلام باغررومی کی اس سے دشمنی منتصرکے بعدامرائے حکومت کاانتشاراور آخر متوکل
کے بیٹوں کوخلافت سے محروم کرنے کافیصلہ مستعین کے دورحکومت میں یحی بن عمربن یحی
بن حسین بن زیدعلوی کاکوفہ میں خروج اورحسن بن زیدالملقب بہ داعی الحق کاعلاقہ
طبرستان پرقبضہ کرلینا اورمستقل سلطنت قائم کرلینا پھردارالسلطنت میں ترکی غلاموں
کی بغاوت، مستعین کاسامرہ کوچھوڑکربغدادکی طرف بھاگنا اورقلعہ بندہوجانا
آخرکارحکومت سے دست برداری پرمجبورہونا اورکچھ عرصہ کے بعدمعتزباللہ کے ہاتھ سے
تلوارکے گھاٹ اترنا، پھرمعتزباللہ کے دورمیں رومیوں کامخالفت پرتیاررہنا، معتزباللہ
کوخوداپنے بھائیوں سے خطرہ محسوس ہونا اورمویدی زندگی کاخاتمہ اورموفق کابصرہ میں
قیدکیاجانا، ان تمام ہنگامی حالات، ان تمام شورشوں، ان تمام بے چینیوں اورجھگڑوں
میں سے کسی میں بھی امام علی نقی کی شرکت کاشبہ تک نہ پیداہونا، کیااس طرزعمل کے
خلاف نہیں ہے؟۔
جوایسے موقعوں پرجذبات سے کام لینے والوں کا ہواکرتاہے ایک
ایسے اقتدارکے مقابلہ میں جسے نہ صرف وہ حق وانصاف کے روسے ناجائزسمجھتے ہیں بلکہ
ان کے ہاتھوں انہیں جلاوطنی قیداوراہانتوں کاسامنابھی کرناپڑاہے مگر جذبات سے
بلنداورعظمت نفس کے کامل مظہردنیاوی ہنگاموں اوروقت کے اتفاقی موقعوں سے کسی طرح
کافائدہ اٹھانا اپنی بے لوث حقانیت اورکوہ سے بھی گراں صداقت کے خلاف سمجھتاہے
اورمخالفت پرپس پشت حملہ کرنے کواپنے بلندنقطہ نگاہ اورمعیارعمل کے خلاف جانتے ہوئے
ہمیشہ کنارہ کش رہتاہے (دسویں امام ص ۱۶) ۔
حضرت امام علی نقی علیہ السلام اورخواب کی عملی
تعبیر
احمدبن عیسی الکاتب کابیان ہے کہ میں نے ایک شب خواب میں
دیکھا کہ حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرماہیں اورمیں ان کی خدمت
میں حاضرہوں، حضرت نے میری طرف نظراٹھاکردیکھا اوراپنے دست مبارک سے ایک مٹھی خرمہ
اس طشت سے عطافرمایا جوآپ کے سامنے رکھاہواتھا میں نے انہیں گناتووہ پچس تھے اس
خواب کوابھی زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ مجھے معلوم ہواکہ حضرت امام علی نقی علیہ
السلام سامرہ سے تشریف لائے ہیں میں ان کی زیارت کے لیے حاضرہوا تومیں نے دیکھا کہ
ان کے سامنے ایک طشت رکھا ہے جس میں خرمے ہیں میں نے حضرت امام علی نقی علیہ السلام
کوسلام کیا حضرت نے جواب سلام دینے کے بعد ایک مٹھی خرمہ مجھے عطافرمایا ، میں نے
ان خرموں کوشمارکیا تووہ پچیس تھے میں نے عرض کی مولاکیا کچھ خرمہ اورمل سکتاہے
جواب میں فرمایا! اگرخواب میں تمہیں رسول خدا(ص)نے اس سے زیادہ دیاہوتاتومیں بھی
اضافہ کردیتا (دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۲۴) ۔
امام علی نقی علیہ السلام کی شہادت
متوکل کے بعداس کابیٹا مستنصرپھرمستعین پھر ۲۵۲ ہجری میں
معتزباللہ خلیفہ ہوا معتزابن متوکل نے بھی اپنے باپ کی سنت کونہیں چھوڑااورحضرت کے
ساتھ سختی ہی کرتارہا یہاں تک کہ اسی نے آپ کوزہردیدیا ۔
”سمعہ المعتز، انوارالحسینیہ جلد ۲ ص ۵۵ ،اورآپ بتاریخ ۳/
رجب ۲۵۴ ہجری یوم دوشنبہ انتقال فرماگئے (دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۴۹) ۔
علامہ ابن جوزی تذکرة خواص الامة میں لکھتے ہیں کہ آپ
معتزباللہ کے زمانہ خلافت میں شہیدکئے گئے ہیں اورآپ کی شہادت زہرسے واقع ہوئی ہے،
علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ آپ کوزہرسے شہیدکیاگیاہے (انوارالابصارص ۱۵۰) ۔
علامہ ابن حجرلکھتے ہیں کہ آپ زہرسے شہیدہوئے ہیں ، صواعق
محرقہ ص ۱۲۴ ، دمعہ ساکبہ جلد ۳ ص ۱۴۸ میں ہے کہ آپ نے انتقال سے قبل امام حسن
عسکری علیہ السلام کومواریث انبیاء وغیرہ سپردفرمائے تھے وفات کے بعدجب امام حسن
عسکری علیہ السلام نے گریبان چاک کیاتولوگ معترض ہوئے آپ نے فرمایا کہ یہ سنت
انبیاء ہے حضرت موسی نے وفات حضرت ہارون پراپناگریبان پھاڑاتھا (دمعہ ساکبہ ص ۱۴۸ ،
جلاء العیون ص ۲۹۴) ۔
آپ پرامام حسن عسکری(ع) نے نمازپڑھی اورآپ سامرہ ہی میں دفن
کئے گئے ”اناللہ واناالیہ راجعون“ ، علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ آپ کی وفات
انتہائی کسما پرسی کی حالت میں ہوئی انتقال کے وقت آپ کے پاس کوئی بھی نہ تھا (جلاء
العیون ص ۲۹۲) ۔
|