ليکن وہ جزئيات کہ جنکي تقسيمات موجود ہيں فقہ ميں ان پر کافي توجہ ي جاتي ہے ۔

واجب معلق ،اور واجب مشروط، مقدمات مفوتہ، ان سب کي اہلسنت کي فقہ ميں کوئي جگہ نہيں ۔ہمارے فقہا نے اہلبيت کي برکت کے ساتھ اصول کي مشکل بحثوں ميں بہت بڑي بڑي کاميابياں حاصل کي ہيں مثال کے طور پر بحث استصحاب ،برائت احتياط وغيرہ يہ سب اہلبيت ع سے ملي ہيں ۔
تحقيقات اصول فقہ کے غني ہونے کا باعث بنتي ہيں ۔اور ہر وہ فقہ جس کے مباني اور اصول قوي ہوں اور اس کے محکم فقہي قواعد ہوں وہ اتنا ہي مستحکم اور قوي ہو گي ۔اور يہ چيز ہميں صرف اہلبيت ع کے ہاں نظر آتي ہے ۔ہمارے بزرگوں نے بہت سارے ايسے نظريے پيش کئے ہيں کہ جن کو انھوں خود فقہ سے ليا ہے ۔
اور بعد ميں ان قواعد کو پروان چڑھايا اور اس کو علم اصول ميں مطرح کيا علم اصول اپني اتني وسعت کے ساتھ پھر بھي اسميں بہت نقائص موجود ہيں مثال کے طور پر کيا اعتبار کا منشاءقدرت خطاب ہے (مرحوم نائيني اسي مسئلہ کے قائل ہيں )يا اس کے معتبر ہونے کا ملاک حکم عقل ہے ۔ کہ بہت سارے بزرگان کا يہي نظريہ ہے ۔ہميں ديکھنا چاہيے کہ کہ علم اصول کے بعض موضوعات جيسے کيا قدرت احکام تکليفيہميں دخيل ہے يا احکام وضعيہ ميں ؟
ان سب مسائل کو ہميں کامل طور پر پيش کرنا چاہيے اور اس ميدان ميں جتنا ہو سکے کام کرنا چاہيے اور اتنا ہي ہماري اصول زندہ ہوتي چلي جائے گي اور اس کے نتيجہ ميں ہماري فقہ ميںبھي ترقي ہوتي چلي
جائے گي۔
علم اصول کي ساتويں خصوصيت يہ ہے کہ کہ ہماري فقہ کا اتصال زمان پيامبر ص سے ہے اور يہ ہماري فقہ کے امتيازات ميں سے ہے اہلبيت ع فرماتے تھے کہ ہم جو بھي کہتے ہيں وہ سب پيامبر ص سے ہے
مگر اہل سنت کي فقہ ميں ايسا کچھ نہيں ہے اہل سنت کي فقہ پيامبر کے زمانے سے بہت دور ہو چکي ہے ليکن ہماري فقہ پيامبر ص کے زمانے سے متصل ہے انکے چار امام اور پيامبر اکرم ص کے ما بين بہت زيادہ فاصلہ رہا ہے اج کل جو بعض روشنفکر افراد ہماري فقہ کے خلاف باتيں کرتيں ہيں اور يہ کہتے ہيں کہ فقھا ءاپني شخصي رائے کو پيش کرتے ہيں يہ ايک بہت بڑي غلطي ہے ۔ ہم نے اپني فقہ کو اہلبيت سے ليا ہے جہ منبع وحي سے متصل ہيں اور ہمارے پا س وہ مطالب ہيں جن کو اہلبيت نے خانہ وحي سے ليا
ہے ۔ہمارے عقيدہ کے مطابق ائمہ طاہرين پيا مبر اکرم ص سے کلمات اور دستورات اسلامي ليتے وقت کسي بھي غلطي کے مرتکب نہيں ہوے ہيں بلکہ جو کچھ پيامبر نے بتايا اسي کوہم تک منتقل کيا ہے يعني فقيہ جس چيز کو بيان کرتا ہے وہ وہي چيز ہے کہ جس کو پيامبر نے بيان کيا ہے اور جس وقت اور جس وقت دو روايتوں کے درميان تعارض پيدا ہو جائےتوں کے درميان تعارض پيدا ہو جائے اس وقت ہميں شخصي طور پر استنباط کرنا پڑتا ہے
کے جس کے سلسلہ ميں اھلبيت نے ہمارے لئے کچھ معيار مقرر فرمائے ہيں جنکي بناءہم تشخيص دے سکتے ہيں کہ کون سي روايت صحيح ہے اور کون سي ضعيف ۔
دوسرا حصہ
اس بات کي طرف توجہ کرتے ہوے کہ جناب عالي نے مختلف سطوح ميں تدريس کے فرائضانجام دئے ہيں اور حال حاضر ميں بھي درس خارج کي تدريس ميں مشغول ہيں اور کئي سال ہو گئے ہيں کہ اپ نے ايک تحقيقاتي مرکز کي بنيا دڈالي ہے آپ يہ بتائيں کہ حوزہ ميں تحقيقاتي کاموں خاص طور
پر فقہ اور اصول ميں کيا کام انجام پايا ہے ؟
ہمارا حوزہ بحمدللہ۔ابتدا سے ليکے اب تک تحقيقات کي وادي ميں آگے آگے رہا ہے اور اج کل جو تحقيقات جو متقدمين اور متاخرين ميں پائي جاتي ہيں اس بات پر زندہ گواہ ہيں ۔انقلاب کے بعد تحقيق کے مسئلہ پر خاص توجہ دي گئي اور مختلف علوم پر کام ہورہا ہے خاص طور سے فقہ اور اصول پر
بہت کام ہو ا ہے اور مراجع عزام کي بھي اس بات پر خاص توجہ تھي جيسا کہ ميں پہلے بھي عرض کر چکا ہوں کے ہم اس بات کے مدعي ہيں کي ہماري فقہ جامع ہے اور ہم اپنے دين کو کامل دين سمجھتے ہيں اس کا لازمہ يہ ہے کہ ہماري فقہ بھي کامل ہے اور کامل فقہ وہ فقہ ہے کہ جو زندگي کہ تمام پہلو ميں موجود ہو اور ہر مسئلہ کا جواب دے سکے ۔يعني جواب دينے کے علاوہ
راہ گشا بھي ہو اور مختلف پہلو ميں جواب دے سکے۔
ہماري فقہ ميں مسئلہ حکومت کے سلسلہ ميں کوئي خاص توجہ نہيں دي گئي۔
جب ہماري فقہ حکومت کے ميدان ميں حاضر ہوئي تو ہميں بہت سارے سوالات سے روبرو ہونا پڑا ،اور جس وقت حکومت اسلامي وجو دميں آئي تو لوگ فقہ کي طرف مائل ہوے اور مختلف سوالات پيش آئے اور اس وقت ہميں فقہ کو حکومتي نقطہ نگاہ سے دوبارہ ديکھنا پڑا طول تاريخ ميں ہمارے فقہا نے بہت زحمتيں اٹھائيں ہيں اور تحقيق کے سلسلہ ميں کبھي بھي سستي سے کام نہيں ليا ،ليکن چونکہ شخصي مسائل کے محدودہ ميں تھے لہذا اسي ديدگاہ کي بناءپر بررسي کرتے تھے ۔
مثال کے طور پر فقہ ميں ايک بحث بيع فضولي کے نام سے پيش کي جاتي ہے اور يہ مسئلہ ہماري فقہ ميں مشہور ہے اور فقہا نے بھي اس بحث کوپيش کيا ہے۔ کيا اب جب کہ حکومت اسلامي بھي تشکيل ہو چکي ہے تو حکومت اسلامي معالات فضولي کو صحيح قرار دے سکتي ہے البتہ ميں يہاں
پر کسي رائے کو پيش نہيں کر رہا ہوں ليکن ممکن ہے کوئي يہ کہے کہ روايات ميں جو موارد موجود ہيں اور جن موارد سے ہم يہ استفادہ کرتے ہيں کہ بيع فضولي صحيح ہے تو يہ کچھ محدود موارد ہيں
کہ ہم اسکو جامعہ ميں ايک اصل قرار نہيں دے سکتے کہ جو کوئي چاہے دوسرے کے مال کو بيچ دے اور اس کے ذريعہ معامہ انجام دے اس پر بھي بہت سار ے اشکلات وارد ہيں۔
باب قضا ميں کہ جسکا فقہ شيعہ ميںايک بہت بڑا مقام ہے اور يہ فقہ شيعہ کے افتخارات ميں سے ہےکہ اس ميں بحث قضا ،مجازات،اور دوسرے حقوقي مسائل مطرح ہيں ۔
حکومت اسلامي کي تشکيل کے بعد اس سلسلہ ميں بھي بہت سوال مطرح ہوے اور يہ ان سوالوں سے جو گذشتہ ميں مطرح ہوے تھے ان سے کئي زيادہ تھے۔
ہم اپنے والد بزرگوار کے دفتر ميں شعبہ استفتائات ميں ايک کتاب تنظيم کي ہے کہ جو قضا کے مسائل سے مربوط ہے کہ شايد اسکي دو جلد ہيںکہ جس ميں ہزار مسئلہ سے زيادہ پيش کئے گئے ہيں،واقعا ہم باب قضا ميںميںديکھتے ہيں کہ اس سلسلہ ميں بہت کم تحقيق ہوئي ہے اور جو اس سلسلہ ميں زيادہ کام کرتے ہيں اس بات کي طرف صحيح طرح سے متوجہ ہيں۔
اج ہم اقتصادي مسائل ميں اس بات کا ادعا کر سکتے ہيںکہ اس ميں بہت تبديلياں واقع ہو چکي ہيں ۔ زمانہ قديم ميں کھچ معاملات ايسے تھے کہ جو اپني شکل بدل چکے ہيںاس بنا ءپران سب مسائل پر تحقيق کرنے کي ضرورت ہے اور انشاءاللہ کام بھي ہو رہا ہے ۔
حکومت اسلامي کي بنياد نے حوزہ اور فقہاءکو اپني طرف متوجہ کر ديا اور فقہ اور اصول ميں زيادہ سے زيادہ کام ہونے لگا ۔
گر چہ بعض افراد نے ا س بات کا ادعا کيا ہے کہ پہلے فقہا ءدقت سے کام ليتے تھےاج کل کے فقہا ءاتني دقت سے کام نہيں لے رہے ہيں ليکن دوسري طرف سے ہمارے پاس ايسے افراد موجو ہيں کہ واقعا اس ميدان ميں تحقيق کر رہے ہيں اور بہت اچھي صلاحيت کے حامل ہيں اور بہت سارے مسائل کو حل کر چکے ہيں ۔
اس بناہ پر حکومت نے پژوہش اور تحقيق کي فضا کو ايجاد کيا ہے دوسري طرف نئے نئے مسائل وجود ميں آرہے ہيں کہ جنکا ہميں جواب دينا ہے اور جتنا علم اورٹيکنالوجي ميں پيشرفت ہو رہي ہےاتنا ہي فقہ اور اصول ميں بھي ترقي ہو رہي ہے ۔
جديد مسائل کے بارے ميں کلي طور پر چند نظريہ پائے جاتے ہيں ۔
پہلا نظريہ ہے کہ کچھ ايسے نئے مسائل ہيں کہ ہميں ان کا حل تلاش کرنا ہے ايسے قواعد کو مد نظر رکھ کر جوہمارے پاس موجود ہيں ۔
ليکن وہ ہماري نظر ميں کچھ نئے مسائل کا حل بتا سکتے ہيں جيسا کہ ہم نے گذشتہ بحث ميں عرض کيا تھا ہماري فقہ ميں بعض ايسے قواعد ہين جو ابھي مکمل طور پر روشن نہيں ہوے ہيں ہميں ان کا حل بھي تلاش کرنا ہے ۔
ميرے نظريہ کے مطابق ہماري فقہ اور فقہي منابع ميں بعض ايسے قواعد اور ضوابط موجود ہيں کہ جو ابھي فقھي کتابوں ميں مطرح نہيں ہوے ہيں لہذا نئے مسائل کے سلسہ ميں فقہ کے اصلي مسائل کي طرف رجوع کرنا پڑے گا ۔
جديد مسائل کے سلسلہ ميں ضروري ہے کہ ايک نيا تخصصي رشتہ ايجادکيا جائے جيسا کہ مرکز فقہي ائمہ اطھار ميں بعض طالب علم فقھي اور اصولي بحثوں ميں تخصصي طور پر ۴ےا ۵سال تک پڑہتے ہيں اور اسکے بعد جديد مسائل کي طرف بھي توجہ ديتے ہيں ميرے نظريہ کے مطابق جديد مسائل کے سلسلہ ميں ہميں کچھ خاص فقہي او راصولي مباني کي طرف توجہ کرنا ضروري ہے يہاں پر ميں بعض کي طرف مختصرطور پر اشارہ کرتا ہوں ۔
جديد مسائل کے سلسلہ ميں ايک مسئلہ کہ جسکي طرف کافي توجہ دينے کي ضرورت ہے وہ سيرہ عقلائيہ ہے۔
سيرہ عقلائيہ ان چيزوں ميں سے ہے کہ اصول ميں خاص طور سے مرحوم شيخ انصاري کے زمانے سے اس پر کافي توجہ ہونے لگي شيخ مرحوم سے پہلے اس مسئلہ پر کوئي خاص توجہ نہيں تھي اور اس مسئلہ کو فقہ ميں بہت کم مطرح کيا جاتا تھا اس بنا ءپر آپ ديکھتے ہيں کہ مرحوم شيخ نے بہت سارے خيارات کو اسي مسئلہ کے ذريعہ ثابت کيا ہے ہم بھي اپنے بہت سارے مسائل کو اسي سيرہ عقلائيہ کے ذريعہ ثابت کر سکتے ہيں اور اکثر احکام جو باب معاملات ميں موجود ہيںوہ سيرہ عقلائيہ سے ہي ثابت ہوتے ہيں سيرہ عقلائيہ کے سلسلہ ميں ايک ايک اختلاف پايا جاتا ہے کہ کيا وہ سيرت حجت ہے جو معصوم کے زمانے مين موجود تھي او ر معصوم نے اس کي تاييد کي ہے يا کوئي اور بات ہے ؟
جيسا کہ اکثر فقہاءنے اسي نظريہ کو قبول کيا ہے ۔يا يہ کہ بعض لوگ يہ کہتے ہيں سيرہ عقلائيہ اگر چہ نئي ہو وہ بھي معتبر ہے ۔
امام خميني اور ہمارے والد بزرگوار کا يہ نظريہ تھا سيرہ حادث ہمارے لئے حجت ہے وہ اس بات کے معتقد تھے چونکہ يہ دين ،دين خاتم اور کامل ہے اور شارع کو بھي اس بات کي خبر تھي کہ ائندہ ميں کچھ نئے
مسائل وجود ميں آئيں گے اور نئي سير ت بھي وجود ميں آئے گي اور لوگ اسي کو ليں گے۔
اس بناءپر سيرہ عقلائيہ ايک ايسي چيز نہيںہے کہ جس سے لوگ غافل ہوں اور عام لوگ اسکي طرف توجہ نہ کريں اگر شارع کي اس بات پر توجہ نہ ہوتي تو شارع اس سے منع کر ديتا مثال کے طور پربيمہ کے باب ميں آپ فرض کريں۔کہ ہم باب (اوفوابالعقود ) کے ذريعہ اس مسئلہ کو حل نہيں کر سکتےاور اگر ہم سيرہ عقلاءکے ذريعہ اس مسئلہ کو حل کرنا چاہيں تو ہم يہ ديکھيں گے عقلاءکي بنا ءاس بات پرہے کہ بيمہ ايک قرار داد ہے۔
آج ايسے کچھ توافق نامہ ہيں کہ جنکو بيع کے عنوان کے تحت رکھا جاتا ہے نہ اجارہ کے عنوان کے تحت رکھا جاتا ہے بلکہ فقہ ميں کسي بھي عنوان کے تحت نہيں رکھا جاتا ۔دو companies کے
درميان قراردادےا دو ملکوں کے درميان يہ کسي بھي عنوان کے نيچے نہيں بلکہ سيرہ عقلائيہ اس بات کي تائيد کرتي ہے۔
ليکن اگرچاہيں کہ موجودہ سيرت عقلاءکي بناءپر درست کريں تو اور اس کو حجت قرار ديں تو بہت سارت مسائل کا حل مل جائے گا۔
ليکن اگر اس سيرت کي بنا ءپر جو معصوم کے زمانے ميں تھي اس پر اکتفا کريں تو پھر فقيہ کا ہاتھ بندھ کر رہ جائے گا اور فقيہ کچھ بھي نہيں کر پائے گا البتہ اس بات کي طرف توجہ رکھنا چاہيے کہ ہمارے سبھي فقہاءکا اس بات پر اتفاق ہے کہ کہ وہ سيرہ عقلائيہ جو معصوم کے زمانے ميں تھي اس کے کچھ خاص مصاديق ہيں ،ليکن آج اس کے مصاديق تبديل ہو چکے ہيں ليکن اصل سيرہ موجود ہے ۔
اور اسکي بناءپر عمل کيا جا سکتا ہے ۔مثال کے طور پرمعصوم کے زمانے ميں سيرہ عقلائيہ اس بات پر تھي کہ اگر کوئي شخص کسي کے مال کي حيازت کرتا تھا اسکا مالک ہو جاتا تھا اور يہ ملکيت کے اسباب ميں سے ايک سبب ہے ۔
مثلاً اگر کوئي شخص کسي زمين کو اباد کرتا تھاےا جنگل سے ہيزم (لکڑي وغيرہ)کو جمع کر کے لاتا تھا تو وہ اس کا مالک ہو جاتا تھا۔ ليکن اج اسباب حيازت ميں کافي تبديلي آچکي ہے اور بجلي يا دوسرے نئے وسائل کے ذريعہ سے کئي ہيکٹر زمين کے کھيتي کي جا سکتي ہے ۔فقہا يہ کہتے ہيں وہ سيرت جو معصومين کےزمانے ميں تھي وہ حجت ہے اور اس ميں کسي طرح کا اختلاف نہيں پايا جاتا اور سيرت معصومين کے انکے زمانے خاص مصاديق تھے اور اج وہ بدل چکے ہيں پھر فقہا ءيہي کہتے ہيں وہ ملاک جو معصوم کے زمانےميں موجو دتھا وہ آج بھي موجود ہے صرف اس کے مصاديق بدل چکے ہيں ۔
ا س بناءپر نئے مسائل کے سلسلہ ميں سيرئہ عقلائيہ پر بہت تحقيق کرنے کي ضرورت ہے اور اگر امام خميني رہ کے نظريہ کو ثابت ہو جائے اور اگر ہم اس کو علمي اعتبار سے ثابت کر سکيں تو آج ہم بہت سارے نئے مسائل کا حل نکال سکتے ہيں ۔
وہ چيزيں جوجنکي طرف توجہ رکھنا جديد مسائل مين بہت ضروري
ہے وہ يہ ہيں کہ کيا وہ مسائل جو شريعت ميں آئے ہيں کيا وہ قضايا حقيقيہ ميں سے ہيں يا خارجيہ ميں سے ؟مثلاً اب سيرہ عقلائيہ کا يہ کہنا ہے کہ قاتل کا اعدام نہيں ہونا چاہيے ليکن ہماري شريعت ميں موجود ہے کہ( ولکم في القصاص حياةيا اولي الاالباب)اگر کوئي فقيہ فقہ ميں متضلع ہو اور يہ جان لے کہ يہ قضيہ ايک قضيہ حقيقيہ ہے نہ ايک قضيہ خارجيہ وہ اس قضيہ حقيقيہ کے ساتھ سيرہ عقلائيہ کو پيش کرے گا اور کہے گا کہ سيرہ متشرعہ کسي کام آنے والي نہيں ہے اور اسلام نے اس کو رد کيا ہے ،ليکن اگر ہم اس کو ايک قضيّہ حقيقيہ کي صورت ميں پيش کريں (و لکم في القصاص حياة)اور يہ کہيں يہ اس وقت تھا کہ جب کوئي قبيلہ کسي آدمي کو قتل کرتا تھا تو لوگ اس قبيلہ پر حملہ کرتے تھے اور اس قبيلہ کے دس آدميوں کو قتل کر ديتے تھے اور اسلام نے آکر اس نظريہ کو پيش کيا (النفس باالنفس)اور يہ مسئلہ قبائل عرب سے مربوط تھا اور اب اس پر استدلال نہين کيا جا سکتا ہے ۔
مرحوم نائيني کے ابتکارات ميں سے ايک يہ ہے وہ اس بات کو
ثابت کرتے ہيں کہ شايد جو کچھ شريعت ميں آيا ہے وہ صرف اور صرف قضيہ حقيقيہ کي صورت ميںہے ۔اور اگر کوئي قضيہ خارجيہ کي صورت ميں ہے تو اس ميں قرينہ کي ضرورت ہے اور ہميں کچھ قرائن
کے ذريعہ سمجھنا پڑے گا کہ يہ ايک قضيہ خارجيہ ہے ۔
من جملہ وہ مباني کہ جنکو ہر محقق جديد مسائل ميں جاري کرنا چاہتا ہے اور ان کي تحليل اور تجزيہ کرنا چاہتا ہے اس کو اسي مسئلہ ميں کام کرنا پڑے گااور حقيقي اور خارجي قضايا کے فرق کو سمجھنا پڑے گا۔
مختصر طور پر عرض کروں کہ کہ ہماري فقہ ميں تحقيق کا شعبہ بہت ہي سستي سے کام کر رہا ہے اور جديد مسائل ميں ہميں کافي دقت سے کام لينا پڑے گا ۔تقليد اجتھاد اور ارتداد کي بحثوں ميں دو جگہ پر احکام کي بحث کرنا ضروري ہے ، بحث ارتداد ميں کہتے ہيں کہ اگر کوئي احکام کا منکر ہو جائے وہ کافر ہے اور اسکو قتل کر دينا ضروري ہے ۔ اجتھاد اور تقليد کي بحثوں ميں سبھي فقہا کا کہنا ہے کہ ضروريات دين ميں تقليد نہيں کي جا سکتي ہے ۔ صاحب جواہر بحث ارتداد ميںفرماتے ہيں :کہ اگر کوئي کسي اجماعي حکم کا منکر ہو جائے تو وہ کافر نہيں ہے۔ ليکن مھدورالدم (يعني اس کا خون حلال )ہے ۔يعني کسي کو حق نہيں ہے کہ وہ کسي ايک اجماعي حکم کا منکر بن جائے ہمارے فقہا اور علماءيہ کہتے تھے کہ اجتھاد کے شرائط ميں سے ايک يہ ہے کہ مجتھد اجماع کے موارد سے آگاہي رکھتا ہو۔
اس لئے کہ اس کو حق نہيں ہے کہ موارد اجماع سے مخالفت کرے اور اس کے خلاف فتويٰ دے اگر مخالفت اور اس کا انکار کرے گا تو وہ بھي مہدورالدم ہے۔
اہم نکتہ يہ کہ جن چيزوں پر اجماع ہے وہ روشن اور واضح ہيں ليکن ضروري کے معني کيا ہيں ؟
اگر کتاب جواہر يا دوسري مختلف فقہي کتابوں کي طرف رجوع کريں تو آپ ديکھيں گےکہ کسي ضروري حکم کيلئے کوئي ضابطہ اور قانون موجود نہيں ہے ۔
اسي مسئلہ يعني (انکار ضروري ميں بھي اختلاف پايا جاتا ہے ۔بعض کا يہ عقيدہ ہے کہ اگر کوئي ضروريات دين کا منکر ہو جائے تو وہ مرتد ہے چاہے وہ اسکے ضروري ہونے کے بارے ميں علم رکھتا ہو يا نہ رکھتا ہو اور بعض کا يہ عقيدہ ہے کہ وہ اسکے ضروري ہونے کے بارے ميں علم رکھتا ہو اور پھر اسکا منکر بن جائے تو وہ بھي مرتد ہے يہ اس بات کي نشان دہي کرتا ہے کہ معلوم نہيں کہ کيا يہ ضروري خود حکم کيلئے وصف ہے يعنيجيسا کہ باب حکم ميں کچھ تقسيمات موجود ہيں جيسے حکم تکليفي ،اور حکم وضعي،حکم مولوي ،حکم ارشادي ،اس بناء پر حکم کي دو قسميں ۱۔حکم ضروري ۲۔حکم غير ضروري اس بات کو فقہاءنے مکمل طور پر بيان نہيں کيا ہے اور اس بات کو روشن کرنے ضرورت ہے ليکن يہ کہا جا سکتا ہے في الجملہ اس کے معني روشن ہيں۔
ضروري کيلئے وجوب نماز،وجوب روزہ اور وجوب حج کي مثال پيش کرتے ہيں ليکن ميں اب بہت ساري دوسري مثالوں کو بيان کر سکتا ہوں کہ جو فقہ ميں ضروري کے عنوان سے پيش کي جاتي ہيں ۔
البتہ يہاں پر دين اور مذہب کي ضروري بحثوں کو الگ کرنا چاہيے اور اور وہ حکم جو ارتداد کيلئے ہے وہ يہ ہے کہ اگر کوئي دين کے کسے ضروري امر کا منکر بن جائے تو وہ مہدورالدم ہے ۔اب اگر کوئي فقہ کے ضروريات کا منکر بن جائے تو معلوم نہيں ہے کہ اسکا حکم قتل ہو ،حقيقت يہ ہے کہ جب ہم فقہاءکہ تعبيرات کو ديکھتے ہيں کہ کبھي کھبي وہ کہتے ہيں (ھذاضروري)اور [کان ان يکون ضرورياً]يا يہ کہتے ہوے نظر آتے ہيں کہ يہ بات ضروري سے ملحق ہے۔ان سب مسائل سے ہٹ کر اس علمي خلاءکو پر کرنا ہے کہ يہ جو مسئلہ کہ جس کيلئے کوئي وقانون اور ضابطہ موجود ہي نہيں ہے اس سلسلہ ميں بہت زيادہ کوشش کرنے کي ضرورت ہے۔
جناب عالي اپنے تجربہ کي بناءپر اگر طالب علموں کيلئے کوئي خاص نقطہ ہو تو بيان فرما ئيں :
مختصر طور پر طلاب اور فضلاءکي خدمت جو عرض کرنا ہے وہ يہ ہے کہ علوم ديني کي اہميت انکے ليے واضح اور روشن ہونا چاہيے افسوس کي بات ہے بعض طالب علم اس علم کي اہميت کے بارے ميں شک اور
ترديد کا شکار ہيں کبھي اس عنوان کے ساتھ کہ يہ علوم گذشتہ زمانے کيلئے تھے اور کھبي اس بہانے سے کہ يہ ايک ايسا علم جس کا کوئي فايدہ نہيں ہے ۔
اگر ہم ان علوم کے اخروي ثواب اور دنيوي اعتبار سے اس کے آثار وضعي سے ايک طرف رکھ ديںاور فيصلہ کرنا چاہيں تو ہميں يہ کہنا پڑے گا کہ ہمارے علوم کي اہميت دوسرے علوم سے کئي زيادہ ہے ۔فقہ ،اصول ،تفسير ،کلام اور فلسفہ اس قدر علمي نکات سے سرشار ہيں کہ جب ہم ان ميں سے بعض موجود تحقيقات کہ جو ۰۰۳ سال يا ۰۰۴ سال پہلے انجام پائي ہيں اج دنيا والوں کے سامنے رکھيں تو يقيناً تعجب کريں گے کہ کيا اس طرح کي تحقيقات بھي موجود تھيں۔
مصر ميں ايک مصري عالم دين کہ جسکا نام (السنہوري)کہ جس نے ايک کتاب لکھي کہ جس کا نام (الوسيط )تھا جس ميںاس نے مصر کے شہري
قانون کو بيان کيا ہے اس کتاب کي ہر جلد ہزار صفحوں پر مشتمل ہے اور وہ دس جلدوں سے بھي زيادہ ہے اس آدمي نے سچ مچ محنت اور لگن سے کام کيا ہے۔ليکن جيسا کہ نقل کرتے ہيں کہ اسي آدمي نے کہا ہے کہ جس وقت ميري کتاب تمام ہو گئي اور ،منظر عام پر آگئي تو ميں شيخ انصاري کي کتاب مکاسب سے آشنا ہوا اور اگر اس سے پہلے مين نے ان باريک نکات سے آشنا ہوتا تو ميں اپني کتاب ميں اچھے نتائج حاصل کر سکتا تھا کيونکہ مکاسب کا اکثر حصہ معاملات سے مربوط ہے يہ اس بات کي نشاندہي کرتا ہے کہ ہمارے علماءنے کتني دقت اور ظرافت سے کام ليا ہے۔

پہلا صفحہ  
زندگی نامہ  
تالیفات  
دروس  
انٹرویوز  
تصاویر  
یادیں  
هم سے رابطه كيجئے
مرتبط سائٹس  
مناسبتها